کیا جون سے سکول کھولے جانے کا فیصلہ ہو چکا ہے؟

Spread the love

‘آج آن لائن کلاس لینی شروع کی تو بجلی چلی گئی، میں نے سوچا اب کیا کروں، لیکن شکر ہے کہ پانچ منٹ میں ہی بجلی واپس آگئی۔ کل یہ ہوا کہ کلاس لیتے ہوئے انٹرنیٹ بند ہو گیا، پھر افرا تفری میں سکول پہنچی اور باقی کی آن لائن کلاس سکول کے دفتر میں بیٹھ کر لی۔’

یہ مسائل صرف لبنیٰ امیر کے نہیں ہیں، جو لاہور کے سٹی سکول (ماڈل ٹاؤن برانچ) میں پڑھاتی ہیں بلکہ اس طرح کے مسائل اساتذہ اور طالب علم دونوں کو پیش آ رہے ہیں اور اکثر بچے مختلف وجوہات کی وجہ سے کلاس نہیں لے پاتے۔

لبنیٰ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ‘اس طرح پڑھانا مشکل تو ہے مگر اساتذہ کسی نہ کسی طرح مینیج کر رہے ہیں۔ اب ہمارے سکول 4 جون سے کھل رہے ہیں، پنجاب حکومت نے مارچ میں 30 مئی تک سکولوں کی چھٹیوں کا اعلان کیا تھا اور ہمارا سکول حکومت کے احکامات کی پیروی کرتا ہے۔ اب تک حکومت کی جانب سے کوئی نوٹیفیکیشن تو سکول کو نہیں آیا مگر ہمیں انتظامیہ نے تصدیق کردی ہے کہ ہمارا سکول چار جون سے کھل جائے گا اور اس کا نوٹیفیکیشن بھی  جاری کردیا گیا ہے۔’

دوسری جانب لبنیٰ کے سکول کی پرنسپل مسز عائشہ حماد نے بھی اس امید کا اظہار کیا کہ ان کا سکول جون کے پہلے ہفتے میں کھل جائے گا۔ انہوں نے بتایا: ‘جون میں ہم بچوں کے سلیبس کی دہرائی کروائیں گے اور جولائی میں ان کے امتحان لے کر انہیں 17 اگست تک چھٹیاں دے دیں گے۔’

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ‘اگر ایسا نہیں ہوتا تو ‘ہم بچوں کو آن لائن کلاسز میں کارکردگی کی بنیاد پر اگلی کلاسوں میں بھیج دیں گے۔’

عائشہ حماد نے بتایا: ‘ہم نے منصوبہ بنایا ہے کہ ہمارا سکول صبح 7:30 پر لگے گا اور دوپہر سے پہلے ہم چھٹی دے دیں گے۔ کرونا وائرس کے پیش نظر ہم نے ایس او پیز بھی ترتیب دے دیے ہیں جن میں سیفٹی کٹس کے ساتھ ساتھ سماجی دوری کا خیال رکھنا وغیرہ شامل ہے اور یہ ایس اوپیز ہم نے والدین کو بھی بھیج دیے ہیں۔’

اس حوالے سے آل پاکستان پرائیوٹ سکولز فیڈریشن کے مرکزی صدر کاشف مرزا نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق حکومت شاید چھٹیوں کو بڑھا کر ستمبر تک لے جائے۔ 

کاشف کہتے ہیں کہ مارچ سے پنجاب میں سکول بند ہیں، یہاں تک کہ ان کے انتظامی امور کے دفاتر بھی بندش کا شکار ہیں جن کی وجہ سے بچوں کی پڑھائی کا حرج تو ہو ہی رہا ہے مگر سکولوں کے انتظامی امور بھی رک گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا: ‘صرف 15 سے 20 فیصد تک فیس جمع ہو سکی ہے، جس کی وجہ سے  پورے پاکستان میں 15 لاکھ اساتذہ جو نجی سکولوں میں پڑھاتے ہیں ان کی تنخواہوں کا مسئلہ ہی حل نہیں ہو پا رہا۔ اسی طرح آن لائن سروسز بھی بہت سے سکول نہیں دے پا رہے کیونکہ سکولوں کے دفاتر کھلیں گے تب ہی آپ وہاں بیٹھیں گے اور آن لائن کلاسز لیں گے اور اگر یہ چھٹیاں ستمبر تک گئیں تو بچوں کی پڑھائی سمیت سب کچھ برباد ہو جائے گا۔’

کاشف نے مزید بتایا کہ 98 فیصد نجی سکول مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھنے والے سکول ہیں جب کہ ایلیٹ سکول بمشکل ایک یا دو فیصد ہیں۔ ‘یہ دو فیصد شاید اپنا بچاؤ کر لیں مگر لو کاسٹ سکولوں کے لیے چھ ماہ کا یہ لاک ڈاؤن برداشت کرنا ناممکن ہو جائے گا کیونکہ ان میں سے بیشتر کو فیس ہی وصول نہیں ہوئی۔’

ان کا کہنا تھا: ‘پاکستان میں دو لاکھ سات ہزار نجی سکول ہیں جن میں سے 85 فیصد سکولوں کی فیس دوہزار روپے کے لگ بھگ ہے یا اس سے کم ہے، 13 فیصد سکول 5 ہزار روپے ماہانہ فیس لیتے ہیں جب کہ ایک فیصد نجی سکولوں کی فیس دس ہزار روپے کی حد میں ہے۔ ایک فیصد ہی نجی سکول ایسے ہیں جن کی فیس دس ہزار روپے سے اوپر ہے یا وہ ڈالر میں فیس لیتے ہیں۔ اسی طرح 85 فیصد نجی سکولوں کے بچوں کے پاس نہ انٹرنیٹ تک رسائی ہے اور نہ ان کے والدین کے پاس اتنا شعور ہے کہ وہ انہیں آن لائن کلاسز کروائیں۔’

‘حکومت کو سکول کھولنے ہی پڑیں گے، انہیں چاہیے کہ شفٹیں بنا دیں۔ پری سکول سے پرائمری تک کے بچے پہلی شفٹ میں آئیں، جو بچے پہلے پانچ کلاسوں میں بیٹھتے تھے وہ دس کلاسوں میں بٹھائیں اس طرح سماجی دوری کا بھی خیال رکھا جاسکے گا اور انہیں 11 بجے تک چھٹی دے دی جائے، اس کے بعد بڑی کلاسوں کے بچوں کو بلا لیں۔’

 دوسری جانب پنجاب ٹیچرز یونین کے جنرل سیکرٹری رانا لیاقت نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ‘نجی و سرکاری سطح پر ڈھائی کروڑ سے زائد بچے سکولوں میں پڑھ رہے ہیں جب کہ ان میں سے  سرکاری سکولوں میں آٹھویں سے ہائی سکول تک طالب علموں کی تعداد 15 سے 20 لاکھ ہے اور ان سب بچوں کا مستقبل خطرے میں ہے۔’

انہوں نے بتایا کہ اس وقت حکومت کی جانب سے کوئی اعلان نہیں ہوا کہ سکول کب کھولنے ہیں لیکن اساتذہ پریشان ہیں۔  ‘اگر ہمارے سکول چار یا چھ ماہ بند رہے تو ہمارے بچوں کا تعلیمی نقصان بہت زیادہ ہو جائے گا۔ انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ سٹیک ہولڈرز کے ساتھ بیٹھ کر حکمت عملی ترتیب دیں جس میں بڑے بچوں کو سکولوں میں واپس لائیں، ان کے سیکشنز کا حجم 20 بچوں پر لے آئیں اور انہیں روزانہ دو یا تین گھنٹے پڑھایا جائے۔’

رانا لیاقت نے بتایا کہ ‘حکومت نے تعلیم گھر کے نام سے ایک چینل چلایا ہے لیکن بات یہ ہے کہ یہ چینل یا آن لائن کلاسز بچوں کو تعلیم دینے کا پائیدار حل نہیں ہے اور جن بچوں کی بات ہم کر رہے ہیں ان میں سے تو کمپیوٹر بھی چند ہی کے پاس ہوگا اور بعض گھروں میں تو ٹی وی بھی ایک ہی ہوتا ہے اور ایک کمرے میں اسں گھر کے سبھی افراد بیٹھے ہوئے ہیں، اس میں بچہ کیسے تعلیمی چینل دیکھے گا اور کیا سیکھے گا؟ آدھے گھنٹے میں آپ کتنا سلیبس کروائیں گے؟ اس کے لیے یا تو پھر ہر کلاس کے لیے الگ الگ چینل بنانے پڑیں گے یا پھر ایک ہی چینل پر ہر کلاس کے لیے کم از کم تین گھنٹے وقف کرنے پڑیں گے، اسے بھی ہم چوبیس گھنٹے میں کور نہیں کر سکیں گے۔’

ان کا کہنا تھا کہ اب تک مارچ  میں ختم ہونے والے میٹرک کے امتحانی پرچوں کی چیکنگ کا سلسلہ بھی شروع نہیں ہوا۔ رانا لیاقت کے خیال میں پنجاب حکومت کی جانب سے واضح حکمت عملی نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے بچے ذہنی دباؤ کا شکار ہیں، خاص طور پر وہ بچے جو ذہین ہیں اور انہیں اپنا مستقبل واضح نظر نہیں آرہا۔ 

حکومت سکول کھولے گی بھی یا نہیں؟

اس سلسلے میں حکومتی ترجمان مسرت چیمہ نے انڈپینڈنٹ اردو کوبتایا کہ پنجاب حکومت نے اس بات کا اب تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا کہ سکول کب کھلنے ہیں؟ ‘جون میں تو ویسے بھی گرمی کی چھٹیاں ہوتی ہیں۔’

ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ‘مئی کا مہینہ فیصلہ کن ہوگا کہ حکومت کو سکول کھولنے کے حوالے سے کیا احکامات جاری کرنے ہیں۔’

انہوں نے مزید بتایا: ‘جب اس بات کا اعلان ہوا تھا کہ سکول 30 مئی تک بند رہیں گے تب ہمیں امید تھی کہ کرونا کا مقامی طور پر پھیلاؤ نہیں ہوگا مگر اب ہمارے مستقبل کے تمام تر فیصلوں کا انحصار آگے آنے والے دو تین ہفتوں پر ہے۔ کالج اور یونیورسٹیوں کا بھی تبھی کوئی حتمی فیصلہ ہوگا جب ہمیں معلوم ہوگا کہ کرونا وائرس کے کیسز کا گراف ہمیں کیا کہہ رہا ہے۔’

مسرت چیمہ کہتی ہیں کہ ’60 سے 70 فیصد بچے جو گاؤں دیہات کے ہیں، جن کے لے حکومت نے ایک تعلیمی چینل کا آغاز کیا ہے، یہ بچے تو آن لائن تعلیم حاصل نہیں کر سکتے اور یہ تعلیمی چینل انہیں کافی فائدہ پہنچا رہا ہے۔’

ان کے خیال میں جھگیوں میں رہنے والوں کے پاس بھی ٹی وی ہے اور وہ بھی یہ چینل دیکھتے ہیں، جب کہ نجی سکولوں کے بچے آن لائن تعلیم لے رہے ہیں۔ ‘اب ہنگامی حالات ہیں، اس کے علاوہ کوئی اور آپشن نہیں ہے۔’

مسرت چیمہ کے مطابق: ‘کرونا نے ابھی چلنا ہے، اس لیے ہمیں یہ سیکھنا پڑے گا کہ کرونا وائرس کے ساتھ زندگی کیسے گزارنی ہے، جیسے باقی ممالک کر رہے ہیں۔’